محفوظات برائے March, 2008
بچپن کے دُکھ ۔ ۔ ۔ ۔
بچپن کے دُکھ کتنے اچھے ہوتے تھے
تب تو صرف کھلونے ٹوٹا کرتے تھے
وہ خوشیاں بھی جانے کیسی خوشیاں تھیں
تتلی کے پر نوچ کے اُچھلا کرتے تھے
چھوٹے تھے تو مکرو فریب بھی چھوٹے تھے
دانہ ڈال کر چڑیاں پکڑا کرتے تھے
پاؤں مار کر بارش کے پانی میں
اپنی ناؤ آپ ڈبویا کرتے تھے
اپنے جل جانے کا بھی احساس نہیں تھا
جلتے ہوئے شعلوں کو چھیڑا کرتے تھے
اب تو اک آنسو بھی رُسوا کر دیتا ہے
بچپن میں جی بھر کے رویا کرتے تھے
بیشکریہ عائشہ صاحبہ
شہید لال مسجد
اسلام علیکم دوستوں۔
کل ایک عزیز کی فوتگی کے سلسلے میں H-11 اسلام آباد کے قبرستان میں جانا ہو ۔وہاں جب ہم میت سے فارغ ہوئے تو ایک کونے میں کافی قبریں تھی جن پر ایک ہی عبارت لکھی ہو ئی تھی ۔شہید لال مسجد جس میں چھوٹی بڑی سب قبریں موجود تھی اور لوگ ان فاتحہ بھی پڑھ رہے تھے ۔
میرے ہم زلف جو لاہور سے آئے تھے میں اور انھوں نے بھی فاتحہ پڑھی فاتحہ کے بعد وہ بولے کے ہم ان شہیدوں کو نہیں جانتے اور بہت سے لوگ جو فاتحہ پڑھ رہے ہیں وہ بھی نہیں جانتے لیکن یہ معصوم بچے اور عورتیں اور مرد ہیں جو مشرف اور دونوں ملاویوں کی وجہ سے مارے گے ۔
اور یہ ان شہیدوں کا مقام ہے کے جو بھی اس قبرستان میں آتا ہے ان کی قبر پر فاتحہ کہتا ہے ۔
March 25, 2008 | یادیں اور باتیں | 3 تبصرے »