محفوظات برائے زمرہ 'شعر شاعری'

وہ رنگوں میں ڈھلی لڑکی

 

وہ رنگوں میں ڈھلی لڑکی
کبھی جب بات کرتی ہے
تو اس کے لفظ خوشبو کی طرح محسوس ہوتے ہیں
وہ ہنستی ہے تو جیسے سارا عالم اس ہنسی میں ڈوب جاتا ہے
وہ لب اس کے، وہ آنکھیں اور وہ چہرے کی شادابی
کہ جیسے اپسرا کوئی
وہ میرا نام لیتی ہے تو میری روح میں جیسے نشہ سا اک اُترتا ہے
مرا مَن جھوم اٹھتا ہے
وہ رنگوں میں‌ڈھلی لڑکی
جھکائے اپنی پلکوں کو کبھی مجھ سے جو کہتی ہے
مجھے تم سے محبت ہے
تو اس کا شرمگیں لہجہ، یقیں مجھ کو دلاتا ہے کہ دُنیا خوبصورت ہے
وہ رنگوں میں ڈھلی لڑکی
اُداسی کے گھنے سایوں کو جب بھی اُوڑھ لیتی ہے
مرا دل خون روتا ہے
میں اس کی شربتی آنکھوں کے نم سے بھیگ جاتا ہوں
وہ رنگوں میں ڈھلی لڑکی
جسے مجھ سے محبت ہے
مرا اظہار سنتی ہے تو پھر سب بھول جاتی ہے
جھکائے اپنی پلکوں کو وہ ایسے مسکراتی ہے
کہ جیسے اپسرا کوئی
وہ رنگوں میں ڈھلی لڑکی
مرے لفظوں میں رہتی ہے
مجھے اکثر یہ کہتی ہے
مجھے تم سے محبت ہے

August 09, 2008 | شعر شاعری | ایک تبصرہ »

ہم کہ ٹھرے اجنبی، اِتنی مُلاقاتوں کے بعد (فیض احمد فیض)

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی مداراتوں کے بعد

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

تھے بہت ہی بےدردلمحےختمِ دردِ عشق کے
تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد

دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی
کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد

ان سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کيئے
ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد


April 16, 2008 | شعر شاعری | 2 تبصرے »

دوسری دستک

تھی مقدر میں لکھی ہوئی دوریاں

میری راہ میں حائل تھی مجبوریاں

تم کو منظور میرا ہونا نہ تھا

تومیرا دل بھی کوئی کھلونا نہ تھا

کسی دل پر میرا دل اب نہ دے گا

دستک ۔۔۔۔۔!!!!!

زندگی ایک ڈھلتی ہوئی شام ہے

یہ میری کہانی کا انجام ہے

پیار کہاجیسے ہم پگھلتے رہے

شمع کی طرح چپ چاپ جلتے رہے

یہ میری ڈکھڑکنوں کی چاپ ہے

یا کوئی دستک ۔۔۔!!!!

کوئی تو ہے نہ جانے کس نے دی ہے

دوسری دستک ۔۔۔۔!!!!!!!!

March 28, 2008 | شعر شاعری | 3 تبصرے »

بچپن کے دُکھ ۔ ۔ ۔ ۔

 

بچپن کے دُکھ کتنے اچھے ہوتے تھے


تب تو صرف کھلونے ٹوٹا کرتے تھے


وہ خوشیاں بھی جانے کیسی خوشیاں تھیں


تتلی کے پر نوچ کے اُچھلا کرتے تھے


چھوٹے تھے تو مکرو فریب بھی چھوٹے تھے


دانہ ڈال کر چڑیاں پکڑا کرتے تھے


پاؤں مار کر بارش کے پانی میں


اپنی ناؤ آپ ڈبویا کرتے تھے


اپنے جل جانے کا بھی احساس نہیں تھا


جلتے ہوئے شعلوں کو چھیڑا کرتے تھے


اب تو اک آنسو بھی رُسوا کر دیتا ہے


بچپن میں جی بھر کے رویا کرتے تھے

 

بیشکریہ عائشہ صاحبہ

March 27, 2008 | شعر شاعری | 4 تبصرے »